AI
اوپن اے آئی سی ای او: اے آئی پالیسی پر بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے
اوپن اے آئی کے سربراہ نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور رابطہ کاری کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اکیلی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی پالیسی کے تمام مسائل کا حل نہیں جانتیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دنیا میں معروف ترین ادارے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اکیلے مصنوعی ذہانت سے جڑے پالیسی امور اور چیلنجز کے تمام جوابات نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کو سمجھنے اور ان کا مؤثر سدباب کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک اور اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
حالیہ برسوں میں جنریٹو اے آئی اور لارج لینگویج ماڈلز کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ایک طرف انسانی زندگی اور معیشت میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے غلط استعمال، سکیورٹی کے خطرات اور اخلاقیات کے حوالے سے گہرے خدشات نے بھی جنم لیا ہے۔ ماہرین اور عالمی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی کی ترقی کو من مانی کرنے کے بجائے سخت ضابطوں کے تحت چلایا جائے تاکہ معاشرے کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اوپن اے آئی کے سربراہ نے بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک ادارے یا ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ تنہا اس ٹیکنالوجی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر سکے۔ اس کے لیے حکومتوں، سول سوسائٹی اور عالمی اداروں کو ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا ہوگا تاکہ ٹیکنالوجی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو نہ کہ اس کے لیے کوئی نیا خطرہ بنے۔