World
روس کے پاس نیٹو پر حملے کی فوجی صلاحیت نہیں: پولش وزیر خارجہ
پولش وزیر خارجہ رادسواف سیکورسکی نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ روس کے پاس اتنی فوجی طاقت نہیں ہے کہ وہ نیٹو پر حملہ کر سکے۔ انہوں نے عالمی سلامتی کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ اہم بیان دیا ہے۔
پولینڈ کے وزیر خارجہ رادسواف سیکورسکی نے کہا ہے کہ روس کے پاس اتنی فوجی قوت اور وسائل موجود نہیں ہیں کہ وہ شمالی بحر اوقیانوس کی معاہدے کی تنظیم یعنی نیٹو پر براہ راست حملہ کر سکے۔ انہوں نے یہ خیالات ایک نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران کا اظہار کیے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق انٹرویو میں بات کرتے ہوئے رادسواف سیکورسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے خلاف طویل جنگ اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد روسی فوج اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کسی بڑی نیٹو اتحادی قوت کو چیلنج کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو کا دفاعی اتحاد انتہائی مضبوط ہے اور روس کی کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پولش وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقی یورپ میں سکیورٹی خدشات اور روس اور مغربی ممالک کے درمیان تناؤ عروج پر ہے۔ یوکرین جنگ کے آغاز سے ہی پولینڈ اور دیگر بالٹک ممالک اپنی دفاعی تیاریوں کو مسلسل بہتر بنا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
مجموعی طور پر رادسواف سیکورسکی کے اس بیان کو مغربی حلقوں میں اطمینان کا باعث قرار دیا جا رہا ہے، جس میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ اگرچہ روس خطے کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا ہوا ہے، تاہم اس کی عسکری صلاحیتیں اتنی محدود ہو چکی ہیں کہ وہ نیٹو کے وسیع تر دفاعی حصار کو توڑنے کی سکت نہیں رکھتا۔