World
اقوام متحدہ میں جنگ اور عالمی ترقی کے مسائل پر بحث
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران، شام اور کینیا نے عالمی ترقی کے عدم توازن پر روشنی ڈالی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنگوں اور عالمی سطح پر پائی جانے والی ناانصافیوں نے ترقی پذیر ممالک کی راہ میں شدید مشکلات پیدا کی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران دنیا کے کئی ممالک نے اس اہم سوال پر سنجیدہ بحث کا آغاز کیا ہے کہ آخر کیوں کچھ قومیں بے پناہ ترقی کر گئیں جبکہ دیگر ممالک ابھی تک بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ اس مباحثے میں ایران، شام اور کینیا کے رہنماؤں نے اس بات پر خصوصی روشنی ڈالی کہ جنگ، تنازعات اور عالمی ناانصافی نے کس طرح عالمی ترقی کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ رہنماؤں کا موقف تھا کہ دنیا کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مسلسل جنگی صورتحال ترقی پذیر اور کمزور معیشتوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم نہیں کرتی۔
شام اور ایران کے نمائندوں نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر عائد پابندیاں اور طاقتور ممالک کی جانب سے مسلط کردہ جنگیں خطے کے عوام کو پسماندگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی سطح پر قوانین سب کے لیے یکساں نہیں ہوں گے اور ناانصافی کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہے۔ جنگ سے متاثرہ ان ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ کوئی بھی قوم پیچھے نہ رہ جائے۔
دوسری جانب کینیا نے افریقی خطے کے تناظر میں یہ نکتہ اٹھایا کہ مالیاتی نظام کی موجودہ ساخت اور منڈیوں میں عدم مساوات غریب ممالک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کینیا کے رہنما کا کہنا تھا کہ صرف نعروں سے غربت کا خاتمہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور دگر ممالک کو اپنی پالیسیوں میں اصلاحات لانی ہوں گی۔ جنگ اور سیاسی رسہ کشی نے دنیا کے مختلف حصوں میں ترقی کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس نوعیت کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا ایک نئے معاشی اور سیاسی انتشار کا شکار ہو رہی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا یہ خلیج نہ صرف معاشی بحران کو جنم دے رہا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کے لیے اب یہ اشد ضروری ہو چکا ہے کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے جن سے ہر ملک کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کرنے کا منصفانہ موقع مل سکے۔