LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زیتون کے باغات کی تباہی

News Image
اسرائیلی بلڈوزروں نے سالانہ فصل کی کٹائی سے چند ہفتے قبل رام اللہ کے قریب فلسطینیوں کی ملکیت زیتون کے باغات کو اکھیڑ دیا۔ اس کارروائی سے مقامی کسانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اسرائیلی بلڈوزروں نے رام اللہ کے قریب واقع فلسطینیوں کی ملکیت زیتون کے باغات کو مکمل طور پر روند کر تباہ کر دیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی کا موسم محض چند ہفتے دور تھا۔ مقامی زرعی ماہرین اور کسانوں کے مطابق، یہ باغات نہ صرف مقامی معیشت کا ایک اہم ذریعہ تھے بلکہ فلسطینی خاندانوں کی نسلوں کی محنت اور ثقافتی ورثے کی عکاسی بھی کرتے تھے۔ زیتون کی فصل فلسطینی کسانوں کے لیے سال بھر کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے، اور کٹائی سے چند ہفتے قبل اس طرح باغات کا اجاڑ دیا جانا کسانوں کے لیے ایک بہت بڑا معاشی دھماکہ ہے۔ متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ان کی سال بھر کی محنت اور سرمایہ کاری لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے، جس سے ان کے اہل خانہ کے لیے روزگار کے سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں مقامی آبادی کو زبردستی بے دخل کرنے اور ان کی معاشی بنیادوں کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ مقامی لوگوں اور سول سوسائٹی کے اداروں نے اس ظالمانہ اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے تاکہ فلسطینی کسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور اس طرح کی جبری کارروائیوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔