LIVE
Loading Breaking News...

امریکی حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے: ایرانی مشیر

News Image
ایرانی سپریم لیڈر کے ایک اعلیٰ مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے تہران کے خلاف دوبارہ کوئی فوجی کارروائی کی تو جنگ کا دائرہ کار وسیع ہو کر بحر ہند تک پہنچ سکتا ہے۔ اس بیان سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تہران: ایرانی سپریم لیڈر کے ایک قریبی اور با اثر مشیر نے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ کسی بھی قسم کا فوجی حملہ کیا گیا تو اس تنازع کا دائرہ مشرق وسطیٰ سے نکل کر بحر ہند تک پھیل سکتا ہے۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، جس سے عالمی امن اور توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں پس منظر میں چلی جائیں گی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام بارہا اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ صورتحال کو کسی بھی وقت کسی بڑے بحران میں تبدیل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرینِ دفاع کے مطابق بحر ہند تک جنگ کا پھیلنا خطے کے تمام ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی حساس اور اہم ترین راستہ ہے۔ اس صورتحال میں خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں بھی گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے تاکہ کسی بھی بڑی انسانی اور معاشی تباہی سے بچا جا سکے۔ ایرانی قیادت کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس انتباہ پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آیا سفارتی ذرائع سے اس بحران کو کم کرنے میں کوئی کامیابی ملتی ہے یا نہیں۔