Politics
سہیل آفریدی کا خیبر پختونخوا میں راستوں کی بندش اور سیاسی صورتحال پر ردعمل
صوبائی حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت ایک بار پھر وہی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے جو مشرقی پاکستان میں پیش آئے تھے۔
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور صوبائی سیاسی منظر نامے میں متحرک شخصیت سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں سڑکوں اور راستوں کی مسلسل بندش پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے انتہائی سخت الفاظ میں سوال کیا کہ کیا موجودہ حکمران ملک میں ایک بار پھر مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت میں سیاسی اور انتظامی ہلچل عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے نئے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری بھی دی گئی ہے جس کے تحت پولیس کے تقرر اور نگرانی کے اختیارات میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس قانون سازی کے بعد صوبائی اور وفاقی سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے جہاں ایک طرف صوبائی حکومت اسے پولیس کے نظام میں بہتری قرار دے رہی ہے، وہیں وفاقی رہنما اس پر شدید اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔
وفاقی رہنما طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا حکومت کے فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صوبے کے اہم اور حساس اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور انہیں متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیا پولیس ایکٹ نہ صرف ملکی آئین بلکہ پولیس سروسز آف پاکستان کے طے شدہ اصولوں اور قواعد کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے، جو وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں راستوں کی بندش اور نئے پولیس ایکٹ پر پیدا ہونے والا تنازع آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ عوام اور سول سوسائٹی کے حلقے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف روزمرہ کا نظام زندگی مفلوج ہوتا ہے بلکہ عام شہریوں کو شدید معاشی اور معاشرتی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فریقین کے درمیان جاری اس لفظی جنگ کے تناظر میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس معاملے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔