World
بھارتی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار تنازع کی لپیٹ میں
بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار اور الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور دیگر انتخابی اقدامات پر شدید تنازعات کا سامنا ہے۔ حزب اختلاف اور مختلف تنظیموں کی جانب سے کمیشن کے فیصلوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی: بھارت کا الیکشن کمیشن ایک بار پھر شدید تنازعات اور سیاسی بحران کی زد میں آ گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گنیش کمار کے اقدامات پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں اور مختلف سیاسی حلقے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے اندرونی معاملات میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں، جہاں بعض کمشنرز نے بھی پینل کے فیصلوں پر تحریری اعتراضات درج کروائے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے معاملے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا اور اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر گہرے خدشات کا اظہار کیا۔ مختلف ذرائع ابلاغ اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق کمیشن کے متنازع فیصلوں کی وجہ سے اس کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ دوسری جانب، دائیں بازو کی تنظیموں اور بعض سیاسی شخصیات نے اس تمام صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اور بعض مخصوص عناصر جان بوجھ کر الیکشن کمیشن کے سربراہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی اداروں کو متنازع بنانا ملک کے جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کے باوجود، مختلف عوامی تحریکوں اور گروپوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے الٹی میٹم دیے جا رہے ہیں اور ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارتی الیکشن کمیشن کے لیے یہ چیلنجز مزید بڑھ سکتے ہیں کیونکہ شفافیت اور جمہوریت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات نے حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے درمیان محاذ آرائی کو اور زیادہ تیز کر دیا ہے۔