LIVE
Loading Breaking News...

تیل کی قیمتوں میں اضافہ: امریکہ ایران مذاکرات کا اثر

News Image
امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی اہم وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیشرفت کا سامنے نہ آنا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور تازہ دھمکیوں کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے اثرات براہ راست توانائی کی مارکیٹس پر پڑ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق برینٹ آئل کی قیمت ایک بار پھر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جو کہ مارکیٹ میں موجود گہرے عدم استحکام اور رسد کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات ماہ سے جاری اس کشیدگی نے پہلے ہی سپلائی چین کو متاثر کر رکھا تھا اور اب تازہ ترین سفارتی تعطل نے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔ سعودی عرب میں پائپ لائن کی بحالی کے باوجود مارکیٹ میں تیل کی کمی کا دباؤ برقرار ہے کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، واشنگتن اور تہران کی جانب سے سامنے آنے والے سخت بیانات نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ موجودہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے جس سے عالمی معیشت اور توانائی کے بحران میں شدت آ سکتی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان سفارتی سطح پر کوئی مثبت پیشرفت نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں ایندھن اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔