Business
عالمی قرضے 365 ٹریلین ڈالر سے تجاوز، معاشی ماہرین کی تشویش
دنیا بھر میں قرضوں کا مجموعی حجم ریکارڈ 365 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جس پر معاشی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترقی پذیر منڈیوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے قرضے عالمی معیشت کو ایک خطرناک اور نہ ختم ہونے والے مالیاتی چکر میں دھکیل رہے ہیں۔
عالمی معیشت کو اس وقت ایک تاریخی اور غیر معمولی چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ دنیا بھر کے قرضوں کا مجموعی حجم ریکارڈ 365 ٹریلین ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور معاشی ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ بڑھتا ہوا بوجھ عالمی معیشت کو ایک ایسے خطرناک اور تباہ کن سلسلے میں دھکیل رہا ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ترقی پذیر منڈیوں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں قرض لینے کے رجحان میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے عالمی سطح پر قرضوں کے انبار کو اس نئی بلند ترین سطح تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف حکومتیں اور مالیاتی ادارے اس بات پر فکرمند ہیں کہ بڑھتے ہوئے بانڈز کے منافع اور کساد بازاری کے خدشات کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور دیگر معاشی اداروں کی حالیہ رپورٹس میں بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر سرکاری خزانے شدید مالیاتی دباؤ کی زد میں ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتیں اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے لینے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے یہ قرضوں کا جال روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرینِ معیشت نے اسے ایک شیطانی چکر قرار دیا ہے جہاں بلند شرح سود اور مہنگائی کی وجہ سے قرضوں کی لاگت میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اپنے مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا ایک کٹھن مرحلہ بن گیا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں سرمایہ کاری کے حالات سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بانڈ مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال بھی دنیا بھر کے معاشی منظر نامے کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔ تنظیم برائے معاشی تعاون و ترقی (OECD) نے بھی خبردار کیا ہے کہ خراب موسمی حالات اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت پر مزید بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر موثر اور سخت مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو دنیا کو ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی اور عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔