Entertainment
ملکہ ترنم نور جہاں کی صد سالہ سالگرہ اور احمد علی بٹ کا شکوہ
برصغیر کی عظیم گلوکارہ اور اداکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی صد سالہ سالگرہ پر ان کے نواسے اور اداکار احمد علی بٹ نے سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ نور جہاں نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کی بنیاد رکھی اور اپنے دور میں ساتھی فنکاروں سے پانچ گنا زیادہ کمائی کی۔
برصغیر کی تاریخ کی عظیم ترین گلوکاروں اور فنکاروں میں شمار کی جانے والی ملکہ ترنم نور جہاں کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر ایک بار پھر ان کی فنی خدمات کو یاد کیا گیا۔ اس موقع پر ان کے نواسے اور معروف پاکستانی اداکار احمد علی بٹ نے ایک سخت بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے شکوہ کیا ہے کہ پاکستانی قوم اور متعلقہ اداروں نے اپنی اس عظیم لیجنڈ کو فراموش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ جس فنکارہ نے پاکستان کی فلم اور موسیقی کی دنیا کو اپنے خون پسینے سے سینچا، آج اسے اس طرح بھلا دیا گیا ہے۔
احمد علی بٹ نے اپنے یادگاری پیغام میں انکشاف کیا کہ نور جہاں نہ صرف ہندوستان کی ایک ابھرتی ہوئی اور مانی ہوئی اسٹار تھیں بلکہ انہوں نے ہجرت کے بعد پاکستان آ کر یہاں کی نوزائیدہ فلم انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملکہ ترنم نے اپنے معاصرین اور ساتھی فنکاروں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ معاوضہ حاصل کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی فنی صلاحیتیں اور مقبولیت اپنے دور میں کتنی بلند تھیں۔ ان کی گائیکی اور اداکاری نے پاکستانی سنیما کو ایک نئی شناخت بخشی اور آنے والی نسلوں کے لیے راہیں ہموار کیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا پر نور جہاں کی صد سالہ سالگرہ کے حوالے سے ہونے والی بحث میں شائقین کی طرف سے بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف مداحوں نے ملکہ ترنم کی لازوال آواز اور ان کی فلمی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، وہیں دوسری طرف اس بات پر بھی گہرے رنج کا اظہار کیا گیا کہ سرکاری اور ثقافتی سطح پر ان کی سالگرہ کے موقع پر وہ شان و شوکت دکھائی نہیں دی جو اس قد و قامت کے فنکار کا حق بنتی تھی۔
اختتامی طور پر، احمد علی بٹ کا یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قومیں اپنے محسنوں اور ثقافتی ہیروز کو یاد رکھ کر ہی زندہ رہتی ہیں۔ نور جہاں صرف ایک نام نہیں بلکہ برصغیر کے موسیقی اور فلمی ورثے کا ایک روشن باب ہیں جن کے بغیر پاکستانی سنیما کی تاریخ ادھوری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو ان کے فنی کارناموں سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ اپنے اصل ہیروز کی قدر کرنا سیکھیں۔