LIVE
Loading Breaking News...

پولینڈ میں اسٹارلنک اسٹیشن پر حملہ اور روس کا خطرہ

News Image
پولینڈ کے حکام نے سیٹلائٹ اسٹیشن پر لگنے والی آگ کو تخریب کاری قرار دیا ہے جو یوکرین کو انٹرنیٹ فراہم کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک نے بھی روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر خبردار کیا ہے۔
پولینڈ کی حکومت نے ایک اہم سیٹلائٹ اسٹیشن پر پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کو باضابطہ طور پر تخریب کاری قرار دیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ اسٹیشن بنیادی طور پر مواصلاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہے کہ یہ پڑوسی ملک یوکرین کو انٹرنیٹ کوریج فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس کے پیچھے پوشیدہ محرکات اور عناصر کا پتہ لگایا جا سکے۔ اسی دوران ڈنمارک نے بھی خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایک سخت وارننگ جاری کی ہے۔ ڈنمارک کے حکام کا ماننا ہے کہ یورپی سکیورٹی کو اس وقت شدید چیلنجز کا سامنا ہے اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ایسے واقعات خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ یوکرین جنگ کے پس منظر میں ان واقعات کو انتہائی حساس نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اہم انفراسٹرکچر بالخصوص مواصلاتی اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس پر اس طرح کے حملے یا تخریب کاری کے واقعات ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ نیٹو کے اتحادی ممالک پہلے ہی اپنے ڈیجیٹل اور جسمانی انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے اقدامات سخت کر رہے ہیں۔ پولینڈ اور ڈنمارک کے حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یورپ میں سکیورٹی خداتہ روز بروز سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد یورپی ممالک کی طرف سے مزید مشترکہ سکیورٹی لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔ یوکرین کی امداد اور اس سے جڑی مواصلاتی لائنوں کو محفوظ بنانا اس وقت مغربی ممالک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران سے بروقت نپٹا جا سکے۔