Health
این ایچ ایس کا بریسٹ کینسر کے ساڑھے چار ہزار کیسز کا جائزہ لینے کا فیصلہ
برطانیہ میں ایک ہیلتھ ٹرسٹ نے بریسٹ کینسر کے ساڑھے چار ہزار کیسز کا ازسرنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خواتین نے غیر ضروری سرجریوں اور علاج میں تاخیر کی شکایات کی ہیں۔
برطانیہ میں صحت کے ایک اہم ادارے یا ٹرسٹ نے ساڑھے چار ہزار سے زائد بریسٹ کینسر کے کیسز کا تفصیلی اور جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بہت سی خواتین کو ایسی سرجریوں کا سامنا کرنا پڑا جو طبی لحاظ سے غیر ضروری تھیں یا جن کی بروقت تشخیص نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال نے نہ صرف طبی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ مریضوں کے حقوق کے اداروں میں بھی سخت تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خواتین نے اپنے تلخ تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہیں غلط تشخیص، علاج میں غیر ضروری تاخیر اور طبی غفلت کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ خواتین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بروقت اور درست معلومات نہ ملنے کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد متعلقہ ہیلتھ ٹرسٹ نے تمام متاثرہ کیسز کی فائلیں دوبارہ کھولنے کا حکم دے دیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کہاں اور کس سطح پر کوتاہی برتی گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس جامع جائزے سے نہ صرف متاثرہ افراد کو انصاف ملنے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ مستقبل میں اس قسم کے طبی نقائص سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات بھی نافذ کیے جائیں گے۔ این ایچ ایس حکام اس بات کا اعادہ کر رہے ہیں کہ مریضوں کی سلامتی اور معیاری دیکھ بھال ان کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تحقیقات کے نتائج آنے والے ہفتوں میں متوقع ہیں جن کی روشنی میں مزید ضابطہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔