LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور بڑی ٹیک کمپنیاں: کیا ہم پرانے دور میں واپس جا رہے ہیں؟

News Image
مصنوعی ذہانت کو محفوظ بنانے کے تمام دعوؤں کے باوجود، بوٹس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین اور صارفین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ٹیکنالوجی کمپنیاں حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کر رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا بڑی کمپنیاں اپنی پرانی روش 'تیزی سے کام کرو اور چیزیں توڑ دو' کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو محفوظ، شفاف اور ذمہ دارانہ بنانے کے بلند و بانگ دعوے تو مسلسل کیے جا رہے ہیں، لیکن عملی میدان میں صورتحال کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہی ہے۔ آج کل جس تیزی سے اے آئی بوٹس کے غیر متوقع، خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویے سامنے آ رہے ہیں، اس نے صارفین اور ماہرینِ معاشیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں جب سوشل میڈیا اور سافٹ ویئر انڈسٹری نے اس اصول کے تحت ترقی کی تھی، تو اس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے، اور اب ایسا ہی خدشہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بڑی ٹیک کمپنیوں نے دنیا کو یہ یقین دلایا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو ترقی دیتے وقت حفاظت اور اخلاقی اقدار کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے واقعات نے ان وعدوں کی قلعی کھول دی ہے۔ مارکیٹ میں برتری حاصل کرنے کی اندھی دوڑ میں کمپنیاں حفاظتی پروٹوکولز کو پسِ پشت ڈال رہی ہیں، جس کے نتیجے میں اے آئی بوٹس غلط معلومات پھیلانے، تعصبات کو بڑھاوا دینے اور بعض اوقات صارفین کے لیے خطرناک ثابت ہونے والے رویے ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ تجارتی فوائد کو انسانی تحفظ اور اخلاقیات پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ اس تمام صورتحال کے بعد اب سول سوسائٹی، ریگولیٹرز اور سنجیدہ حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کی اجارہ داری کو لگام دی جائے۔ جب تک مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے سخت قوانین اور شفاف اصول وضع نہیں کیے جاتے، اس قسم کے واقعات میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کے نام پر معاشرے کو خطرے میں ڈالا گیا تو اس کے طویل المدتی نقصانات پوری انسانیت کو بھگتنے ہوں گے۔ لہذا، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں اور متعلقہ ادارے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور ٹیک جنات کو جوابدہ بنائیں۔