LIVE
Loading Breaking News...

لوسی پاول کا چھوٹی کشتیوں کے مسئلے اور حکومتی حکمت عملی پر بیان

News Image
برطانوی حکومت کی اہم رہنما لوسی پاول نے کہا ہے کہ تارکین وطن کی چھوٹی کشتیوں کے مسئلے کو فوری طور پر ختم کرنے والا کوئی واحد سوئچ یا جادوئی حل موجود نہیں۔ انہوں نے یہ بات لیبر پارٹی کے سالانہ کانفرنس سے قبل بی بی سی کے مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
برطانوی حکمران جماعت لیبر پارٹی کی اہم رہنما اور پارلیمنٹ میں نمایاں شخصیت لوسی پاول نے کہا ہے کہ ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے والی چھوٹی کشتیوں کے بحران کے خاتمے کے لیے کوئی ایک واحد 'سوئچ' یا فوری جادوئی حل موجود نہیں ہے۔ یہ مؤقف انہوں نے لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے آغاز سے ٹھیک پہلے بی بی سی کے مقامی ریڈیو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران اختیار کیا۔ ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ موجودہ حکومت اس مسئلے پر سخت تنقید کی زد میں ہے۔ لوسی پاول نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، تاہم سرحدی سلامتی اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر جو پالیسیاں اپنائی گئی تھیں، ان کے اثرات کو ختم کرنے اور ایک موثر نیا نظام وضع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لیبر پارٹی کا عزم ہے کہ وہ اس بحران سے جامع اور پائیدار انداز میں نمٹے گی لیکن اس کے لیے راتوں رات کوئی معجزہ رونما نہیں ہو سکتا۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے آنے والے تارکین وطن کا مسئلہ طویل عرصے سے ملکی سیاست کا ایک انتہائی حساس اور گرم موضوع بنا ہوا ہے۔ عامتہ الناس اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سرحدوں کی سکیورٹی اور پناہ گزینوں کے معاملات پر حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لوسی پاول کے اس تازہ ترین بیان کو حکومتی سطح پر زمینی حقائق کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کو اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق اس بحران کے جلد از جلد عملی نتائج فراہم کرنے چاہئیں۔