World
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا انتخاب: دوڑ میں خواتین بھی پیش پیش
اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے منصب کے لیے امیدواروں کی نامزدگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس اہم عالمی دوڑ میں اب تک آٹھ امیدوار سامنے آئے ہیں جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے اہم اور باوقار منصب کے لیے ہونے والے انتخابات کی تیاریاں اور سفارتی سرگرمیاں تیزی سے عروج پر پہنچ رہی ہیں۔ دنیا کے اس سب سے بڑے عالمی ادارے کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے نامزدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے اس دوڑ کا مقابلہ کافی دلچسپ ہو گیا ہے۔ اس بار اس عالمی منصب کے لیے آٹھ نمایاں امیدوار میدان میں اترے ہیں، جن میں خواتین امیدواروں کی نمایاں تعداد اس عمل کو مزید تاریخی بنا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آٹھ حریفوں میں سے پانچ خواتین ہیں جو اس عہدے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی تاریخ میں اب تک یہ منصب ہمیشہ مرد حضرات کے پاس رہا ہے، اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بار خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی اس تاثر کو بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تمام امیدوار عالمی سطح پر امن کے قیام، موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات، غربت کے خاتمے اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے اپنے نظریات اور ایجنڈے پیش کر رہے ہیں۔ ان امیدواروں کا تعلق دنیا کے مختلف خطوں سے ہے، جو اس انتخابی عمل کو جغرافیائی اعتبار سے بھی کافی متوازن بناتا ہے تاکہ تمام رکن ممالک کی آواز کو مناسب نمائندگی مل سکے۔
آنے والے مہینوں میں سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے اراکین کے درمیان ان امیدواروں کی قابلیت اور ان کے لائحہ عمل پر تفصیلی بحث اور غور و خوض ہوگا۔ سلامتی کونسل اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ وہ حتمی نامزدگی جنرل اسمبلی کو منظوری کے لیے ارسال کرتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس الیکشن پر مرکوز ہیں کیونکہ دنیا کو اس وقت کئی پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط، دور اندیش اور متحرک قیادت کی اشد ضرورت ہے۔ یہ انتخابی عمل نہ صرف اقوام متحدہ کے مستقبل کی سمت طے کرے گا بلکہ یہ بھی ثابت کرے گا کہ عالمی ادارہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔