LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں زیلنسکی کے خطاب کے دوران روس کا یوکرین پر حملہ

News Image
روس نے ایک بار پھر یوکرین پر شدید فضائی حملے کیے ہیں جو عین اس وقت کیے گئے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔ ان حملوں نے بین الاقوامی برادری کی توجہ ایک بار پھر اس جاری تنازعے کی طرف مبذول کرا دی ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ایک طرف یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی دنیا کے رہنماؤں سے خطاب کر رہے تھے اور دوسری طرف روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر شدید فضائی حملے شروع کر دیے۔ یہ واقعہ سفارتی محاذ پر جاری کشیدگی اور زمینی حقائق کے درمیان پائے جانے والے گہرے تضاد کو واضح کرتا ہے جہاں جنگ کی ہولناکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں اپنے روایتی پرجوش خطاب کے دوران صدر زیلنسکی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی بھرپور حمایت جاری رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دنیا نے اس جارحیت پر چشم پوشی برتی تو اس کے عالمی امن پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ان کے اپنے ملک میں سائرن گونج رہے تھے اور روسی میزائل اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے تھے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں کا مقصد یوکرین کے دفاعی عزم کو کمزور کرنا اور نفسیاتی دباؤ بڑھانا تھا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا تاہم کچھ مقامات پر نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اس بیک وقت ہونے والے حملے اور سفارتی جنگ نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس تنازعے کا پائیدار حل کیسے نکالا جائے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے اس مخصوص موقع کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ سفارتی فورمز پر ہونے والی تنقید سے مغلوب نہیں ہوتا۔ دوسری جانب، یوکرین کے اتحادی ممالک نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور یوکرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سفارتی اور عسکری محاذ پر مزید تناؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔