Sports
بھارتی سرفرز کا 2026 کے ایشیائی کھیلوں اور 2028 کے اولمپکس کا ہدف
بھارتی سرفرز نے انتہائی کٹھن چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے ایشیائی کھیلوں تک رسائی حاصل کی ہے اور اب ان کی نظریں سال 2028ء کے اولمپکس میں شرکت پر مرکوز ہیں۔ یہ سرفرز بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
بھارت کے ملاحوں اور سرفنگ کے کھلاڑیوں نے متعدد مالی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود سال 2026ء کے ایشیائی کھیلوں میں اپنی جگہ یقینی بنانے کے لیے شاندار عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ سرفنگ جیسا کھیل جو روایتی کھیلوں کے برعکس بھارت میں ابھی اپنی ابتدائی منازل طے کر رہا ہے، کے کھلاڑیوں نے وسائل کی کمی کے باوجود قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کھلاڑیوں کا یہ سفر کسی بھی طرح آسان نہیں تھا کیونکہ تربیت کے لیے مناسب ساحلی سہولیات، کوچنگ اور مالی اعانت کی کمی ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ تاہم ان تمام رکاوٹوں کے باوجود بھارتی سرفرز نے ہار نہیں مانی اور انتہائی سخت ترین حالات میں بھی اپنی تربیت جاری رکھی تاکہ ملک کا نام روشن کیا جا سکے۔ اب جب کہ انہوں نے ایشیائی کھیلوں کے لیے اہداف طے کر لیے ہیں، ان کی کامیابی کا یہ سفر ملک میں اس کھیل کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایشیائی کھیلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ان سرفرز کا اگلا اور سب سے بڑا خواب سال 2028ء کے اولمپک کھیلوں میں شرکت کرنا ہے۔ اولمپکس کا یہ سفر ان کے لیے مزید کٹھن ہو سکتا ہے کیونکہ عالمی سطح پر اس کھیل کا مقابلہ انتہائی سخت ہے، لیکن جس طرح انہوں نے ابتدائی مشکلات کا سامنا کیا ہے، اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ وہ مستقبل میں عالمی پلیٹ فارم پر بھی ملک کا پرچم بلند کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کامیابی سے نہ صرف بھارت میں سرفنگ کے کھیل کو پذیرائی ملے گی بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس شعبے کی طرف راغب ہوں گی۔ کھیلوں کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور نجی ادارے ان کھلاڑیوں کی سرپرستی کریں تو بھارتی سرفرز عالمی سطح پر نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔