LIVE
Loading Breaking News...

بحرین کی قیادت میں سمندری سلامتی کا بیان اور ایران حوثی حملوں کی مذمت

News Image
اقوام متحدہ میں اسی سے زائد ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران اور یمن کے حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اس موقع پر خلیجی آبی گزرگاہوں کی سکیورٹی کو بین الاقوامی تشویش کا معاملہ قرار دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دنیا بھر کے اسی سے زائد ممالک نے ایک سخت اور دوٹوک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ایران اور یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سمندری راستوں پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بحرین کی قیادت میں جاری ہونے والے اس اہم بحری سلامتی کے بیان میں بین الاقوامی برادری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران کو یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنا ہوگا۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل اور دیگر عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خلیجی آبی گزرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل جی সেون (G7) ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر اتحادیوں نے بھی اس بات پر گہرے اتفاق کا اظہار کیا ہے کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستوں کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر کھولا جائے تاکہ عالمی سپلائی چین متاثر نہ ہو۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بحرین کی قیادت میں سامنے آنے والا یہ سفارتی اقدام مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک نے ایک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت آواز اٹھائی ہے۔