LIVE
Loading Breaking News...

آئی ایم ایف مذاکرات میں وزارتِ منصوبہ بندی کی شمولیت کا مطالبہ

News Image
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے نئی تجاویز سامنے آئی ہیں جن میں وزارتِ منصوبہ بندی کو بھی شامل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پیٹرولیم لیوی سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اصلاحات کا عمل ملک میں معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے اقتصادی جائزے اور مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور معاشی حلقوں میں اہم تبدیلیاں زیرِ بحث ہیں۔ ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے آئندہ مذاکرات میں وزارتِ منصوبہ بندی کو بھی لازمی طور پر شامل کیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحات کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ دوسری جانب، وزارتِ خزانہ نے حالیہ دنوں میں پیٹرولیم لیوی کو آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی نقطہ قرار دیے جانے والی تمام خبروں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور کسی بھی غلط فहमी کی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔ دریں اثنا، آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام اور ایم ڈی نے اپنے بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں اصلاحات کا تسلسل ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور عام لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ساتھ تکنیکی سطح کے جائزے کے مذاکرات کا باضابطہ آغاز آج سے ہو رہا ہے، جہاں مرکزی بینک کی کارکردگی اور مالیاتی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی استحکام کے ابتدائی فوائد کو براہِ راست سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافے اور توانائی کی طویل مدتی سیکیورٹی میں تبدیل کرے تاکہ ملک بحرانوں سے نکل کر مستقل ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔