LIVE
Loading Breaking News...

محمود عباس کا اقوام متحدہ میں بیان، فلسطینی وفد کو ویزے سے انکار

News Image
فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے وفد کو نیویارک آنے کے لیے غیر قانونی طور پر ویزے دینے سے انکار کیا گیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیلی وزیراعظم کے دورے پر بھی عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران دنیا بھر کی توجہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور سفارتی تنازعات پر مرکوز ہے۔ اس اہم موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے ایک سخت بیان میں انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی وفد کو غیر قانونی طور پر داخلے کے ویزے فراہم کرنے سے انکار کیا گیا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس من مانی کارروائی کا نوٹس لے اور فلسطینی سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے والے اقدامات کی مذمت کرے۔ دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی نیویارک آمد اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ان کے متوقع خطاب کے حوالے سے بھی شدید چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی خدات اور خطرات کے پیش نظر نیتن یاہو کا دورہ انتہائی مختصر کر دیا گیا ہے اور وہ صرف چند گھنٹوں کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اس دورے کے دوران امریکی سیاسی شخصیات سے بھی ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے، جبکہ نیویارک میں ان کے ممکنہ متنازعہ بیانات پر بھی سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری تنازعے کے علاوہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سفارتی ڈیڈ لاک اور ویزے جاری نہ کرنے جیسے تنازعات نے عالمی ادارے کے پلیٹ فارم پر امن مذاکرات کی فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دنیا بھر کے رہنما مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔