World
ایرانی صدر کا اقوام متحدہ میں اہم خطاب، امریکہ کو دوٹوک پیغام
ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر پر تنقید کی اور زور دیا کہ ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات میں تاحال کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ایک انتہائی اہم اور نایاب جنگی خطاب کیا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے امریکہ اور بالخصوص صدر ٹرمپ کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بدمعاشی اور ہٹ دھرمی قرار دیا۔ ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان کا ملک کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا اور اپنی خود مختاری کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا۔ یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات کی راہ میں تاحال کئی بڑی رکاوٹیں حائل ہیں اور دونوں فریقین کے مابین مؤقف میں کافی فاصلہ موجود ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ جنگی حالات اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں فوری امن معاہدے کے امکانات فی الحال محدود ہیں۔ اس کے باوجود اقوام متحدہ میں ایرانی قیادت کی موجودگی کو سفارتی محاذ پر ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے جہاں عالمی رہنما خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے ایرانی اعلیٰ قیادت کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے جاری کیے جانے کے بعد اس دورے کو عالمی میڈیا میں بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نایاب خطاب کے ذریعے تہران نے عالمی برادری تک اپنا مضبوط موقف پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ خطے میں جاری دیگر پیش رفت کے دوران یمن کے پہاڑی علاقوں میں حوثی تحریک کی سرگرمیوں اور امریکی حکمت عملی پر بھی بین الاقوامی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ چلی آ رہی ہے۔