LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں کاک روچ موومنٹ کا الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ

News Image
بھارت میں 'کاک روچ' موومنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے چالیس گھنٹوں میں استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور بصورت دیگر ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور مختلف حلقوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی: بھارت میں سیاسی و سماجی ہلچل اس وقت مزید تیز ہو گئی جب 'کاک روچ' کے نام سے معروف احتجاجی تحریک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ تحریک کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے سربراہ نے مقررہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دیا تو ملک بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی الیکشن کمیشن کو پہلے ہی اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات نے ادارے کی غیر جانبداری پر سیاہ بادل کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا الزام ہے کہ کمیشن کے متنازع فیصلوں نے ملک میں جمہوری عمل کو کمزور کیا ہے اور شفافیت کے فقدان پر سوالیہ نشان لگائے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے اندر بھی تنازعات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں مبینہ طور پر بعض کمشنرز نے کمیشن کے فیصلوں پر تحریری اعتراضات بھی درج کروائے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) کے پارلیمنٹیرین جان برٹاس نے بھی الیکشن کمیشن کی موجودہ قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گیانیش کمار کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے اور اسے جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی کوشش قرار دیا ہے۔ کاک روچ موومنٹ کی جانب سے اس تازہ الٹی میٹم کے بعد نئی دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ انتظامیہ بھی ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہو چکی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس دباؤ اور دھمکی پر تحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔