LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کینیڈین وزیراعظم کے بیان پر سخت ردعمل

News Image
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کینیڈین وزیراعظم کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے ایران کی تباہی کی دھمکی کو محض جنگی زبان قرار دیا تھا۔ تہران نے اوٹاوا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی جنگجوانہ بیانات کی توثیق اور حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کینیڈین وزیراعظم کے اس بیان پر شدید غصے اور رنج کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے حالیہ امریکی دھمکیوں کو محض 'جنگی زبان' قرار دے کر ہلکا کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ یہ خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کینیڈین قیادت نے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے جیسی سنگین اور کھلی دھمکی کی کھل کر مذمت کرنے سے گریز کیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈین وزیراعظم کی طرف سے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد ایرانی سفارتی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی۔ ایرانی ترجمان نے اپنے ایک سخت بیان میں واضح کیا کہ امریکی حکام کی زبان کی نقل کرنے سے کینیڈا اپنے اتحادی کے غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات سے خود کو مبرا یا محفوظ نہیں کر سکتا۔ تہران کا موقف ہے کہ اس طرح کے بیانات عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور تمام ذمے دار ممالک کو اس قسم کے دھمکی آمیز رویے کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ اسے ایک عام سیاسی بیان کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور کینیڈا کے درمیان پہلے ہی سفارتی تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور تازہ ترین لفظی جنگ نے ان تعلقات کو مزید نچلی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی نیا جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اوٹاوا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کی طرف سے اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف بولے جانے والے الفاظ کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ تنازعہ مزید سنگین سفارتی موڑ اختیار کر سکتا ہے۔