LIVE
Loading Breaking News...

پورٹسماؤتھ احتجاج میں بوتل پھینکنے پر دو سال قید کی سزا

News Image
برطانیہ میں پورٹسماؤتھ کے مقام پر ہونے والے ہنگامہ خیز مظاہرے کے دوران بوتل پھینکنے کے جرم میں ایک شخص کو دو سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ملزم نے ایسٹ نی میں رات بھر جاری رہنے والے احتجاج کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔
برطانیہ کے شہر پورٹسماؤتھ میں تارکین وطن کے حوالے سے ہونے والے ایک پرتشدد احتجاج کے دوران پولیس پر اور سکیورٹی اہلکاروں پر بوتل پھینکنے والے ایک شخص کو عدالت نے دو سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں قانون کی حکمرانی اور مظاہروں کے دوران بڑھتے ہوئے تشدد کے مسائل کو ایک بار پھر زیر بحث لے آسکا ہے۔ عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران 42 سالہ ملزم ڈیل سومرویلی نے اپنے اوپر لگائے گئے پرتشدد بدامنی یعنی وائلنٹ ڈس آرڈر کے الزامات کا اعتراف کر لیا۔ یہ پورا واقعہ ایسٹ نی کے علاقے میں پیش آیا تھا جہاں رات بھر تارکین وطن کی مخالفت میں ایک احتجاجی مظاہرہ جاری رہا تھا، جو بعد میں پرتشدد شکل اختیار کر گیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے نظم و ضبط کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈیل سومرویلی نے اس دوران ہجوم میں شامل ہو کر مبینہ طور پر ایک بوتل پھینکی تھی، جس کو شواہد کی بنیاد پر عدالت میں ثابت کیا گیا اور جج نے اس پر سخت فیصلہ صادر کیا۔ برطانوی عدالتی نظام نے حال ہی میں پرتشدد مظاہروں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔