World
یونانی وزیر اعظم کا اینڈی برنہم سے ایلگن ماربلز کی واپسی کا مطالبہ
یونانی وزیر اعظم نے برطانوی سیاست دان اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قدیم یونانی مجسمے بغیر کسی شرط کے مستقل طور پر یونان کے حوالے کریں۔ اینڈی برنہم نے اس سے قبل 2023 میں بھی ان مجسموں کی یونان واپسی کی غیر مشروط حمایت کی تھی۔
یونانی وزیر اعظم نے برطانوی سیاست دان اور مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاریخی ایلگن ماربلز کو مستقل طور پر یونان کے حوالے کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ قدیم مجسمے صدیوں سے برٹش میوزیم کی زینت بنے ہوئے ہیں، جن کی واپسی کے لیے ایتھنز طویل عرصے سے کوششیں کر رہا ہے۔ یونانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان فن پاروں کو ان کے اصل گھر واپس پہنچنا چاہیے تاکہ یونانی ثقافتی ورثے کا یہ اہم حصہ دوبارہ اپنی سرزمین پر محفوظ کیا جا سکے۔
اس معاملے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب اینڈی برنہم نے سنہ 2023 میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان مجسموں کو بغیر کسی شرط کے یعنی 'نو اسٹرنگز اٹیچڈ' کے تحت یونان کو واپس کر دینا چاہیے۔ ان کے اس بیان کا یونان میں انتہائی گرم جوشی سے خیرمقدم کیا گیا تھا، اور اب یونانی قیادت چاہتی ہے کہ برطانوی سیاسی سطح پر اس مؤقف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید دباؤ ڈالا جائے۔ برنہم کے اس موقف نے بین الاقوامی سطح پر ثقافتی ورثے کی واپسی کی بحث کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب، برٹش میوزیم اور برطانوی حکومت کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی پالیسی تبدیل نہیں کی گئی ہے، کیونکہ برطانیہ میں روایتی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ یہ مجسمے عالمی ورثے کا حصہ ہیں اور لندن میں زیادہ بہتر طریقے سے محفوظ ہیں۔ تاہم، دنیا بھر میں نوادرات کی ان کے اصل ممالک کو واپسی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے برطانوی حکام پر اخلاقی اور سفارتی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ اینڈی برنہم جیسے بااثر برطانوی سیاست دانوں کی جانب سے اس قسم کے بیانات اس دیرینہ تنازع کو حل کرنے کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ اگرچہ قانونی پیچیدگیاں اور برٹش میوزیم کے قوانین اس منتقلی کی راہ میں حائل ہیں، لیکن عوامی اور سیاسی سطح پر ہونے والی اس بحث نے ایلگن ماربلز کی واپسی کے امکانات کو روشن کر دیا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید سفارتی مذاکرات کی توقع کی جا رہی ہے۔