LIVE
Loading Breaking News...

لندن میں وزنی کھڑکی گرنے سے ہلاکت، کمپنی پر جرمانہ

News Image
لندن کی ایک عمارت میں ایک سو تیس کلو گرام وزنی کھڑکی گرنے سے میک فیرس نامی شخص موقع پر جاں بحق ہو گئے تھے۔ عدالت نے اس المناک حادثے پر متعلقہ کمپنی کو ایک ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں، لگ્ژری پینٹ ہاؤس سے گرنے والی ایک بھاری بھرکم کھڑکی کی زد میں آ کر جان کی بازی ہارنے والے شہری کے معاملے میں عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس دردناک حادثے میں میک فیرس نامی شخص اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک سو تیس کلو گرام وزنی شیشے کی کھڑکی ان پر آ گری تھی۔ یہ واقعہ ووکس ہال کے علاقے میں واقع نامور عمارت 'دی کارنش' میں پیش آیا تھا جہاں اتنی بڑی اور وزنی کھڑکی کے گرنے سے وہاں کہرام مچ گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات اور عدالت میں چلنے والے مقدمے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ عمارت کی تعمیر اور تنصیب کے دوران حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ جان لیوا حادثہ پیش آیا۔ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے تحت متعلقہ ذمہ دار فریق کو عدالت نے قصوروار قرار دیا۔ عدالتی فیصلے میں کمپنی پر ایک ملین پاؤنڈ کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے تاکہ تعمیراتی اور رہائشی منصوبوں میں لاپروہی کا سخت سدباب کیا جا سکے اور اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ بھر میں بلند و بالا عمارتوں اور لگ્ژری پینٹ ہاؤسز کی تعمیراتی اور حفاظتی معیارات پر ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کمپنیوں کو رہائشیوں اور عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اعلیٰ ترین معیارات اپنانے چاہئیں تاکہ اس نوعیت کے المناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ مقتول میک فیرس کے ورثا نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت کو ہمیشہ کاروبار اور منافع پر فوقیت دی جانی چاہیے۔