LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں 105 سالہ شخص کے خلاف نازی کیمپ کے جرائم پر تفتیش

News Image
جرمن حکام نے نازی دور کے اسٹالاگ 326 کیمپ میں قتل کے مبینہ تعاون کے الزام میں ایک 105 سالہ شخص کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس کیمپ میں سوویت یونین کے دگنا جنگی قیدی ہلاک ہوئے تھے جن کی تعداد دسیوں ہزار میں تھی۔
جرمن استغاثہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی دور کے ایک جنگی قیدی کیمپ میں پیش آنے والے ہولناک واقعات کے سلسلے میں ایک 105 سالہ معمر شخص کے خلاف باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مقدمے کا تعلق مبینہ طور پر اسٹالاگ 326 نامی کیمپ سے ہے، جہاں نازی حکومت کے دور میں سوویت یونین کے ہزاروں جنگی قیدی لائے گئے تھے اور یہاں انتہائی غیر انسانی حالات کے باعث دسیوں ہزار قیدی لقمہ اجل بن گئے تھے۔ تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ یہ معمر شخص اس کیمپ میں مبینہ طور پر قتل کے جرم میں معاون کے طور پر ملوث رہا ہے۔ اسٹالاگ 326 کیمپ سوویت قیدیوں کے لیے ایک موت کا کنواں ثابت ہوا تھا جہاں بھوک، بیماری، اور تشدد کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اموات ہوئیں تھیں۔ اگرچہ اس واقعے کو گزرے ہوئے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں، تاہم جرمن حکام اب بھی جنگی جرائم کے نامعلوم یا پرانے ملزمان کے خلاف انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ استغاثہ کی ٹیم اس امر کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہی ہے کہ آیا اس شخص کے پاس کیمپ کے امور میں براہِ راست یا بالواسطہ کوئی اختیارات تھے اور وہ اس قتل عام میں کس حد تک ذمہ دار یا معاون سمجھا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، مجرم کی انتہائی زیادہ عمر کے باوجود جرمنی میں نازی دور کے جنگی جرائم پر کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل بھی کئی ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جہاں معمر افراد کو نازی کیمپوں میں خدمات انجام دینے پر کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ اس تازہ ترین تحقیقات سے ایک بار پھر تاریخ کے تاریک باب تازہ ہو گئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس بات کی بحث چھڑ گئی ہے کہ جنگی جرائم کے مقدمات میں وقت گزرنے کے ساتھ انصاف کے اصولوں کو کس طرح لاگو کیا جانا چاہیے۔