World
سپین کا ہاؤسنگ بحران اور 87 سالہ خاتون کی بے دخلی کا واقعہ
سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک سرمایہ کار کمپنی کی جانب سے کرایہ بڑھائے جانے پر 87 سالہ ضعیف خاتون کو گھر سے نکال دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران اور مہنگائی کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے پوش علاقے ریتیرو میں ایک ضعیف خاتون کی جبری بے دخلی کے واقعے نے ملک بھر میں جاری ہاؤسنگ بحران کو ایک بار پھر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ اٹھاسی سالہ ماری کارمین نامی اس خاتون کو اس کے اپارٹمنٹ سے اس وقت نکال دیا گیا جب وہ ایک بڑی سرمایہ کار کمپنی کی جانب سے اچانک اور غیر منصفانہ طور پر بڑھائے گئے کرائے کی ادائیگی کرنے سے قاصر تھیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ یہ ملک میں بڑھتے ہوئے رہائشی مسائل اور رئیل اسٹیٹ مافیا کی مبینہ زیادتیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ میونسپل حکام اور سماجی کارکنوں کی جانب سے اس عمل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ بزرگ شہریوں کو اس طرح بے سہارا کرنا معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔ اس واقعے کے بعد دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کرایوں میں بے تحاشا اضافے کو روکے اور کم آمدنی والے افراد خصوصاً ضعیف شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر سخت قوانین نافذ کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپین میں سیاحت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نام پر گھروں کی قیمتوں اور کرایوں میں جو ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اس نے عام آدمی بالخصوص متوسط اور نچلے طبقے کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور ہاؤسنگ مارکیٹ میں ریگولیشنز متعارف کروائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دردناک واقعات سے بچا جا سکے اور غریب عوام کو سر چھپانے کے لیے چھت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔