World
پولینڈ خانقاہ حملہ: یوکرینی شہری کے چاقو کے وار سے ایک ہلاک
پولینڈ کے سرحدی شہر میں واقع ایک خانقاہ میں 31 سالہ یوکرینی شخص کے چاقو کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار افراد زخمی ہو گئے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیینسکی نے اس ہولناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
پولینڈ کے ایک سرحدی قصبے میں واقع تاریخی خانقاہ میں پیش آنے والے ایک پرتشدد واقعے میں ایک یوکرینی شہری نے چاقو کے وار کرکے ایک شخص کو ہلاک اور چار دیگر کو شدید زخمی کر دیا۔ اس افسوسناک واقعے نے دونوںممالک میں گہرے صدمے کی لہر دوڑا دی ہے اور سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ حملے کے فوراً بعد مقامی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور کی عمر 31 سال بتائی جاتی ہے جس نے خانقاہ میں موجود مذہبی رہنماؤں اور عبادت گزاروں کو اپنا نشانہ بنایا۔ اس اچانک اور وحشیانہ حملے کے نتیجے میں موقع پر ہی افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا۔ زخمی ہونے والے چاروں افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیینسکی نے پولینڈ کی خانقاہ میں پیش آنے والے اس واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس فعل کو ایک ہولناک اور بزدلانہ جرم قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ صدر زیینسکی نے متاثرہ خاندانوں اور پولینڈ کے عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے پرتشدد عناصر کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد پولینڈ میں موجود یوکرینی پناہ گزینوں اور مقامی آبادی کے درمیان تعلقات پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم پولش حکام نے عوام سے پُرسکون رہنے اور قانون پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔