World
سوڈان میں مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ، عوام کی مشکلات میں اضافہ
سوڈان میں جاری جنگ اور معاشی عدم استحکام کے باعث روٹی، چینی اور گوشت جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔ مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی نے عام شہریوں اور خاندانوں کا جینا محال کر دیا ہے۔
سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی اور معاشی عدم استحکام کے اثرات اب عام شہریوں کی زندگیوں پر تباہ کن انداز میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ ملک میں کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور بے قابو افراط زر کی وجہ سے خاندانوں کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔ روٹی، چینی اور گوشت جیسی بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی ڈھانچے کی تباہی اور جنگی صورتحال نے تجارتی سپلائی لائنوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قلت اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور بین الاقوامی امدادی ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن زمینی حقائق کے مطابق امداد کی فراہمی میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ عام سوڈانی خاندان اس وقت نہ صرف سلامتی کے بحران سے نبرد آزما ہیں بلکہ انہیں ایک بدترین معاشی اور غذائی کٹہرے کا بھی سامنا ہے۔ اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مالیاتی استحکام کے اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی برادری اس بحران کا نوٹس لے اور سوڈانی عوام کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقتصادی امداد فراہم کی جائے۔