LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کی بحالی: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں 71.5 ارب ڈالر کے تخمینے کا انکشاف

News Image
اقوام متحدہ کی تجارتی اور اقتصادی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی قبضے کے اثرات نے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے جہاں بے روزگاری کی شرح نوے فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ خطے کی مکمل بحالی کے لیے اکہتر اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی بھاری رقم درکار ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک نئے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی کو اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے شدید ترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقیاتی تنظیم کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بنیادی ڈھانچے، معیشت اور انسانی زندگی کی بحالی کے لیے کم از کم اکہتر اعشاریہ پانچ ارب امریکی ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تباہی کے نتیجے میں خطے کی معیشت مکمل طور پر درہم برہم ہو چکی ہے اور روزگار کے مواقع ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری محاصرے اور حالیہ تنازعات کے نتیجے میں غزہ میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر نوے فیصد تک جا پہنچی ہے۔ معاشی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں اور عام شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کا حصول بھی ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قبضے کے طویل المدتی اور تباہ کن اثرات اب آسمان کو چھو رہے ہیں، جس نے خطے کے لاکھوں باسیوں کو انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دھکیل دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور امدادی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غزہ کے عوام کی بحالی کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کریں کیونکہ موجودہ صورتحال کسی بھی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بر وقت مالی امداد اور معاشی بحالی کا کوئی مربوط لائحہ عمل تیار نہ کیا گیا تو غزہ کا خطہ آنے والے کئی سالوں تک معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا۔ نکسورا نیوز اردو کے مطابق اقوام متحدہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ طویل مدتی امن اور استحکام کے لیے معاشی بحالی بنیادی شرط ہے۔