World
اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور افریقہ کا مستقل نشست کا مطالبہ
اقوام متحدہ میں افریقی ممالک کی تعداد چونتیس سے زائد ہے لیکن اس کے باوجود سلامتی کونسل میں ان کا کوئی مستقل نمائندہ موجود نہیں۔ افریقہ کی جانب سے اس ناانصافی کے خاتمے اور عالمی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار کے لیے مستقل نشست کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے نظام میں افریقی براعظم کی طویل عرصے سے جاری نمائندگی کی بحث ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اقوام متحدہ میں افریقہ کے کل چونتیس سے زائد یا کل ملا کر چون (54) ممالک شامل ہیں، جو اس عالمی ادارے کی کل رکنیت کا ایک بہت بڑا حصہ بنتے ہیں۔ اس کے باوجود اتنے بڑے براعظم سے تعلق رکھنے والے کسی بھی ملک کو سلامتی کونسل جیسی طاقتور اور اہم ترین فیصلہ ساز باڈی میں کوئی مستقل نشست حاصل نہیں ہے۔ عالمی سطح پر اس صورتحال کو ایک بڑی ناانصافی اور سرد جنگ کے دور کا باقی ماندہ توازن قرار دیا جاتا ہے۔
سلامتی کونسل کا بنیادی ڈھانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، جس میں پانچ ممالک کو ویٹو پاور کے ساتھ مستقل ارکان کا درجہ دیا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ دنیا کے جغرافیائی اور سیاسی حالات میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں، لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساخت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ افریقی رہنماؤں اور سفارت کاروں کا مؤقف ہے کہ اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی اور چون آزاد ممالک کی نمائندگی کرنے والے افریقہ کو بھی کونسل میں مستقل نشست دی جائے تاکہ عالمی فیصلوں میں افریقی آواز کو نظر انداز نہ کیا جا سکے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ کا یہ مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ عالمی اداروں کی ساکھ اور شفافیت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ سلامتی کونسل کی اصلاحات کا یہ دیرینہ مسئلہ کئی دہائیوں سے زیر بحث ہے، لیکن بڑی طاقتوں کے درمیان مفادات کے ٹکراؤ اور ویٹو پاور کے استعمال کے باعث کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری افریقہ کے اس منصفانہ مؤقف پر کب سنجیدگی سے غور کرتی ہے اور اقوام متحدہ میں حقیقی اصلاحات کا آغاز ہوتا ہے یا نہیں۔