LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ چین تجارتی معاہدہ توسیع اور تجزیہ کاروں کی رائے

News Image
امریکہ اور چین نے تجارتی معاہدے کی مدت میں توسیع کر دی ہے جس پر ماہرین کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض تجزیہ کار اسے محض سفارتی چال قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے طویل المدتی استحکام کی طرف مفید قدم مانتے ہیں۔
عالمی معیشت کے دو بڑے حریفوں امریکہ اور چین کے مابین تجارتی امور پر جاری کشمکش میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب دونوں ممالک نے اپنے تجارتی معاہدے کے عارضی وقفے میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں سپر پاورز کے تعلقات میں تناؤ بدستور برقرار ہے لیکن اس کے باوجود معاشی مجبوریوں نے دونوں فریقین کو بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ تجارتی جنگ کا مستقل خاتمہ ہے یا محض ایک عارضی سیز فائر۔ اس فیصلے کے حوالے سے بین الاقوامی اقتصادی تجزیہ کاروں کی آراء تقسیم نظر آتی ہیں۔ ایک مکتبہ فکر کا ماننا ہے کہ تجارتی معاہدے کی یہ توسیع حقیقت میں صرف سفارتی دکھاوا اور سیاسی ہتھکنڈا ہے تاکہ دونوں ممالک کی عوام کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ اقتصادی محاذ پر تعاون کے خواہاں ہیں۔ ان مبصرین کا خیال ہے کہ بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی کی جنگ اور پالیسی کے اختلافات بدستور اپنی جگہ موجود ہیں، جن کا فوری حل بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس قسم کی توسیع سے کسی بڑے اور پائیدار اقتصادی سمجھوتے کی توقع رکھنا قبل از وقت ہو گا۔ دوسری جانب، کچھ ماہرین اس اقدام کو ایک مثبت اور تعمیری پیش رفت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ انتہائی نوعیت کی کشیدگی اور باہمی رقابت کے ماحول میں بھی بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا اور تجارتی راستوں کو بند ہونے سے بچانا ایک مفید حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق یہ عارضی توسیع مستقبل میں کسی زیادہ مستحکم اور دیرپا تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو بھی ریلیف مل سکے گا۔ موجودہ حالات میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا واشنگٹن اور بیجنگ اس عارضی وقفے کو کسی پائیدار حل میں بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ دونوں ممالک کی یہ 'ہوسٹائل، بٹ ہکڈ' (یعنی دشمنی کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کی) کیفیت اس بات کی غماز ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر طویل عرصے تک معاشی نقصان کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ آنے والے مہینوں میں ہونے والے مذاکرات ہی یہ طے کریں گے کہ دنیا کی یہ دو بڑی معیشتیں باہمی تعاون کا کوئی نیا راستہ نکال پاتی ہیں یا تجارتی محاذ آرائی کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کرتا ہے۔