World
اقوام متحدہ میں 80 ممالک کا ایران اور حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ مؤقف
اقوام متحدہ میں اسی سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں ایران اور اس کے حمایت یافتہ حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے خلیج فارس میں بحری جہاز رانی کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر دنیا بھر کے اسی سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران اور اس کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے ہمسایہ ممالک پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس اہم سفارتی پیش رفت میں عالمی برادری نے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔ مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایران کو یمن میں حوثی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دینی چاہیے کیونکہ ان ہتھیاروں کے ذریعے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہونے والے ان مباحثوں کے دوران اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے تسلسل کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں اسی ممالک نے دنیا بھر کے لیے تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے اور خلیج فارس میں بحری جہاز رانی کو مکمل طور پر بحال کرنے کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔ جی سیون ممالک اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس سے قبل اس نوعیت کے مطالبات سامنے لاتی رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اتفاق رائے بڑھ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اقوام متحدہ کی سطح پر اسی ممالک کا یہ اجتماعی مؤقف تہران اور اس کے اتحادیوں پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا عکاس ہے، اور اس سے آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست اور سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔