LIVE
Loading Breaking News...

نیتنیاہو کا اقوام متحدہ میں خطاب، ایران پر شدید تنقید اور واک آؤٹ

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسرائیل کے فوجی اقدامات کا دفاع کیا۔ ان کے خطاب کے دوران کئی ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کیا جبکہ نیویارک میں مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ایک انتہائی اہم اور ہنگامہ خیز خطاب کیا۔ اپنے اس طویل خطاب کے دوران انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی، جنگی صورتحال اور بالخصوص ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا اور وہ اپنے دشمنوں کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کے لیے شدید دباؤ پایا جاتا ہے۔ نیتنیاہو کے اس خطاب کے دوران اقوام متحدہ کے ہال میں شدید احتجاجی کیفیت دیکھنے میں آئی۔ جیسے ہی اسرائیلی وزیر اعظم نے روسٹر پر قدم رکھا، کئی ممالک کے مندوبین اور سفارت کار احتجاجاً اپنے نشستوں سے اٹھے اور ہال سے باہر چلے گئے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس واک آؤٹ کا مقصد اسرائیل کی جانب سے غزہ اور دیگر علاقوں میں کی جانے والی عسکری کارروائیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔ اس احتجاج کے باوجود نیتنیاہو نے اپنی تقریر جاری رکھی اور ایران پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر بھی شدید احتجاجی مظاہرے ریکارڈ کیے گئے۔ بڑی تعداد میں مظاہرین نے نیتنیاہو کے دورہ نیویارک اور ان کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر جنگ روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس خطاب سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ فریقین کے مابین سفارتی فاصلے بدستور برقرار ہیں۔