Business
امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں گراوٹ
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مضبوط ڈالر کے دباؤ کے باعث روپے کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق مرکزی بینک کی مداخلت کے باوجود کرنسی مارکیٹ میں دباؤ برقرار ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اچانک اضافے اور امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کے براہ راست اثرات کرنسی مارکیٹوں پر مرتب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں روپیہ دباؤ کا شکار ہو کر مزید کمزور ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور ایران کی سفارتی صورتحال پر سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے، جس کی وجہ سے خطے کی کرنسیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی بلند قیمتیں درآمدی بل میں اضافے کا سبب بنتی ہیں، جو ملکی ز مبادلہ کے ذخائر اور مقامی کرنسی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ دوسری جانب تجارتی سرگرمیوں کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی قدر کھو بیٹھا ہے اور اس میں کئیپیسے کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ مارکیٹ میں روپے کی مزید گراوٹ کو روکنے کے لیے مرکزی بینک کیجانب سے ممکنہ مداخلت بھی کی جا رہی ہے تاکہ ز مبادلہ کی مارکیٹ میں کسی حد تک استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے باوجود عالمی عوامل اور مضبوط ڈالر کی وجہ سے ٹریڈنگ سیشنز کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر دباؤ بدستور قائم ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ جب تک عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں نیچے نہیں آتیں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، اس وقت تک ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔ کاروباری حلقوں کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مرکزی بینک کے آئندہ اقدامات بھی کرنسی کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔