Business
وال اسٹریٹ فیوچرز میں گراوٹ، مشرق وسطیٰ کا تناؤ اور ٹرمپ شی مذاکرات
مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے تنازعات اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز میں کمی دیکھی گئی۔ سرمایہ کار واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات سے قبل محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت شدید بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے جب مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے تناؤ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات امریکی اسٹاک مارکیٹ پر واضح ہونے لگے ہیں۔ وال اسٹریٹ کے فیوچرز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات ہیں۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی صدر اور چینی ہم منصب کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات پر بھی مرکوز ہیں، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ عالمی تجارت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، ٹریژری ییلڈز میں نئی بلندیوں اور مہنگائی کے دباؤ نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے جس کے نتیجے میں حصص بازار میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی اور معاشی منظر نامے میں مارکیٹ کے شرکاء کسی بھی بڑے فیصلے سے گریز کر رہے ہیں اور وہ حالات کی بہتری یا کسی ٹھوس پیش رفت کے منتظر ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مبینہ طور پر ایک مرحلہ وار معاہدے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے جس سے بازار میں وقتی طور پر نقصانات کو محدود کرنے میں مدد ملی ہے، تاہم مجموعی طور پر غیر یقینی کی فضا بدستور برقرار ہے۔ ایشیائی مارکیٹوں بالخصوص چین اور ہانگ کانگ کے حصص بازاروں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے اعلیٰ سطح پر ہونے والے مذاکرات اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے اپنی توقعات کو محدود کر لیا ہے۔ اقتصادی مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی اور دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی امور پر کوئی حتمی بات چیت طے نہیں پاتی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس قسم کا دباؤ اور اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔