World
زہر فروخت کرنے والے کے متاثرہ کی والدہ کا عدالت میں جذباتی بیان
برطانیہ یا دیگر مغربی ممالک میں زہر فروخت کرنے والے ایک شخص کے متاثرہ کمسن صاموئیل کی والدہ نے عدالت میں جذباتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پورا خاندان ایک خوفناک خواب میں زندگی گزار رہا ہے۔ صاموئیل کی المناک موت نے ان کے پورے گھرانے کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت میں ہونے والی ایک انتہائی دردناک اور جذباتی سماعت کے دوران اس وقت رقت آمیز فضا پیدا ہو گئی جب ایک متاثرہ بچے کی ماں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ٹانیا ویٹاکر نامی اس ماں نے عدالت میں پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بتایا کہ کس طرح زہر فروخت کرنے والے ایک شخص کے گھناؤنے فعل نے ان کے ہستے کھیلتے خاندان کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ کچھ عرصے سے ایک ایسے مسلسل ہولناک خواب کی زندگی گزار رہے ہیں جس سے بیدار ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
ٹانیا ویٹاکر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بیٹے صاموئیل کی ناگہانی اور دردناک موت نے نہ صرف ان کی اپنی بلکہ پورے خاندان کی دنیا بدل کر رکھ دی ہے۔ صاموئیل کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے اور گھر کا ہر کونہ اس کی یادوں سے آباد ہے۔ ایک ماں کے لیے اپنے جوان یا کمسن بچے کی لاش کو دیکھنا اور اس کے بغیر جینا دنیا کا سب سے بڑا عذاب ہے۔ انہوں نے عدالت کے روبرو اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے دلالوں اور زہر فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کسی اور ماں کو یہ دکھ نہ اٹھانا پڑے۔
عدالت میں موجود تمام افراد اور ججز نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس نوعیت کے جرائم پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے جہاں آن لائن یا خفیہ طور پر خطرناک زہر فروخت کیا جاتا ہے اور نوجوان نسل یا معصوم افراد اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس سماعت نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت ترین اقدامات اٹھانے چاہئیں جو انسانی جانوں سے کھلواڑ کرتے ہیں۔