LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا نے یو این میں اوپن اے آئی ہیک کا راز فاش کردیا

News Image
آسٹریلیا نے اقوام متحدہ جیسے عالمی سیاسی پلیٹ فارم پر اوپن اے آئی میں ہونے والے ہیک اور سیکیورٹی بریچ کا باضابطہ انکشاف کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی سیکیورٹی اور ڈیجیٹل ضابطہ کار کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
آسٹریلیا نے حال ہی میں دنیا کے سب سے بڑے سیاسی اور سفارتی پلیٹ فارم یعنی اقوام متحدہ کے فورم پر اوپن اے آئی (OpenAI) کے حوالے سے ایک اہم اور حیرت انگیز سیکیورٹی بریچ کا انکشاف کیا ہے۔ اس اعلان نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سیکیورٹی پالیسیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ آسٹریلیا نے اس بات کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کتنی حساس نوعیت کی حامل ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی نقب زنی پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو سوشل میڈیا کے استعمال اور ڈیجیٹل ضابطہ کار کے معاملے میں انتہائی سخت قوانین رکھتے ہیں۔ آسٹریلوی حکومت نے حال ہی میں سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ الگورتھمز اور سمارٹ گلاسز جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر بھی سخت کنٹرول تجویز کیے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر اس سیکیورٹی واقعے کو منظر عام پر لانے کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ اے آئی سیکیورٹی اب صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن اور سلامتی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی جانب سے اس بظاہر خفیہ سمجھے جانے والے واقعے کو اتنے بڑے پیمانے پر شیئر کرنے کے پیچھے ایک گہری اسٹریٹجی کارفرما ہے۔ اس انکشاف سے نہ صرف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے لیے دباؤ بڑھے گا بلکہ حکومتوں کو بھی یہ موقع ملے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ریگولیشن کے لیے مشترکہ عالمی لائحہ عمل تیار کریں۔ آسٹریلوی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل سپیس میں بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور شفافیت ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی اور سیاست کا گٹھ جوڑ مزید گہرا ہونے والا ہے۔ جب تک دنیا بھر کی حکومتیں اور ٹیک ادارے مل کر مضبوط فائر والز اور سیکیورٹی پروٹوکولز وضع نہیں کرتے، اس قسم کے سیکیورٹی بریچز عالمی معیشت اور معاشرت کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتے رہیں گے۔ آسٹریلیا کا یہ قدم آنے والے دنوں میں دیگرممالک کے لیے بھی ایک مثال بنے گا کہ وہ اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کے تحفظ کے لیے کس قسم کی سفارتی اور تکنیکی حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔