LIVE
Loading Breaking News...

اٹلی میں اسکولوں کے اندر برقع اور نقاب پر پابندی کا فیصلہ

News Image
اٹلی کے وزراء نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرنے اور کلاس رومز میں غیر ملکی طلباء کی تعداد کو محدود کرنے کے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان اقدامات کو ایک ایسا عام فہم قدم قرار دیا ہے جو تقسیم کرنے کے بجائے اصل انضمام میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اٹلی کی حکومت نے ملک کے تعلیمی نظام میں اہم تبدیلیوں کا فیصلہ کرتے ہوئے اسکولوں کے اندر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ کلاس رومز میں غیر ملکی طلباء کی تعداد کو بھی ایک مخصوص تناسب تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں ثقافتی توازن اور مقامی زبان کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔ کابینہ کے اراکین کے درمیان ہونے والے اس اہم اتفاق رائے کو ملک کے دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان نئے مجوزہ اقدامات کا پرجوش دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات کسی بھی طرح معاشرے کو تقسیم کرنے کا باعث نہیں بنیں گے بلکہ یہ 'عام فہم اور عقل مندی کے اوزار' ہیں جو حقیقت میں تارکین وطن کو ملکی معاشرے میں بہتر طریقے سے ضم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسکولوں میں ایسے قواعد و ضوابط کا نفاذ ضروری ہے جو تمام طلباء کے لیے یکساں ہوں اور قومی اقدار کی عکاسی کریں۔ دوسری جانب، اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے اقلیتوں بالخصوص مسلم کمیونٹی میں خود کو بیگانہ محسوس کرنے کا احساس بڑھ سکتا ہے اور اس سے معاشرتی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔ تاہم، حکومتی اتحاد کا اصرار ہے کہ یہ قوانین تعلیمی اداروں کے اندر نظم و ضبط اور سیکھنے کے اچھے ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بل اور مجوزہ پالیسی پر پارلیمنٹ کے اندر مزید بحث اور قانون سازی متوقع ہے، جہاں اس پر طویل سیاسی مباحثہ ہو سکتا ہے۔ اٹلی کی یہ نئی تعلیمی پالیسی نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ پورے یورپ میں تارکین وطن اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم بحث کا نقطہ بن چکی ہے، اور اس کے نفاذ کے بعد کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔