LIVE
Loading Breaking News...

ایتھوپیا میں نئی پرتشدد جھڑپیں اور فوج کا تنازع

News Image
ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقے میں فوج اور ٹگرے فورسز کے درمیان شدید لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ ٹگرے فورسز نے موجودہ صورتحال کو ایک باقاعدہ اور مکمل جنگ قرار دیا ہے۔
ایتھوپیا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے شمال میں واقع شورش زدہ علاقے میں ایک بار پھر پُرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے سکیورٹی خدات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق دونوں متحارب فریقین کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور متعدد مقامات پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس تازہ ترین لہر نے بین الاقوامی برادری کی بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ٹگرے فورسز کے رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت ملک کی باقاعدہ فوج کے ساتھ ایک 'فل بلوئن وار' یعنی مکمل جنگ کی حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے ان کے علاقوں پر حملے کیے ہیں جس کے بعد ان کے پاس اپنی دفاع کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں بچا۔ فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جس سے امن کی بحالی کی تمام امیدیں دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اس خطے میں طویل عرصے تک خونریز تنازع جاری رہا ہے جس میں انسانی جانوں کا ضیاع اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی تھی۔ بین الاقوامی فلاحی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ جھڑپوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو انسانی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر بات چیت کی میز پر واپس آنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ مزید تباہی کو روکا جا سکے۔