LIVE
Loading Breaking News...

ایتھوپیائی فوج اور تیگرائی جنگجوؤں کے درمیان خونریز جھڑپیں، سیکڑوں ہلاک

News Image
ایتھوپیائی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امہرا کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران 272 تیگرائی جنگجو ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ نے وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل جنگ کی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
ایتھوپیائی فوج نے ملک کے علاقے امہرا میں ایک بڑی عسکری کارروائی کے دوران 272 تیگرائی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب سکیورٹی فورسز نے خطے میں امن و امان کی بحالی اور عسکریت پسندوں کی پیشقدمی کو روکنے کے لیے بھرپور طاقت کا استعمال کیا۔ اس حالیہ جانی نقصان نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد تیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کی طرف سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ باغی تنظیم نے ملک کی موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کی کیفیت قرار دیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات کی تمام راہیں فی الحال مسدود ہو چکی ہیں۔ ٹی پی ایل ایف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مسلط کی جانے والی اس جنگ کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس سے ملک میں ایک بار پھر خانہ جنگی کے گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایتھوپیا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ تاہم، زمینی حقائق کے مطابق فریقین کے درمیان بداعتمادی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا میں جاری یہ تنازعہ نہ صرف اس خطے بلکہ پورے مشرقی افریقہ کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں فریقین کے درمیان جھڑپوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے کیونکہ دونوں فریق پوزیشن پر قائم ہیں۔