Pakistan
پاک افغان بارڈر کشیدگی: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی
بلوچستان کے گلستان سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد افغان طالبان جنگجو مارے گئے۔
اسلام آباد: پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب بلوچستان کے سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ان کے کئی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔ سرکاری میڈیا اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے بلوچستان کے گلستان سیکٹر میں پاکستانی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کرنے کی کوشش کی تھی، جسے پاکستانی دستوں نے ناکام بناتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اس فائرنگ کے تبادلے کے بعد علاقے میں وقتاً فوقتاً فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحد پر تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو سرحد پار سے ہونے والی بلا اشتعال کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا تھا کہ پاکستان نے افغانستان سے آنے والے ڈرونز اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے اندر دس مختلف مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے بھی کیے تھے۔ یہ تمام اقدامات پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کے ردعمل میں کیے گئے۔ دوسری جانب، پاکستان نے کابل حکومت سے بارہا یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ عالمی فورمز اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پاکستان نے واضح کر چکا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق کابل کے ساتھ تعلقات میں حقیقی پیش رفت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب افغان عبوری حکومت دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق اور ٹھوس کارروائی عمل میں لائے گی۔