Pakistan
کراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ، پانچ افراد کے اجتماع پر پابندی
کراچی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس کے تحت شہر بھر میں 30 ستمبر تک پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔
کراچی میں سکیورٹی خدشات، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس حکم نامے کے تحت شہر بھر میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور یہ پابندی 30 ستمبر تک نافذ العمل رہے گی۔ کمشنر کراچی حسن نقوی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پولیس کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ اہم شاہراہوں اور چورنگیوں پر دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس طرح کے دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے نہ صرف روزمرہ کی عام زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ایمرجنسی خدمات اور ہسپتالوں تک مریضوں کی رسائی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کے معقول خدشات موجود تھے کہ اس قسم کے اجتماعات اور ریلیاں امن و امان کی صورتحال کو خراب کر سکتی ہیں، جس سے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان ہی تمام ممکنہ خطرات کے پیش نظر ضروری سمجھا گیا کہ حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور شہریوں کی نقل و حرکت محفوظ بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ کے دیگر شہروں بشمول سکھر اور حیدرآباد میں بھی اس طرح کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں بالخصوص پنجاب، اسلام آباد اور بلوچستان میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ عوامی اجتماعات کو روکا جا سکے اور امن و عامہ کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ کراچی میں عائد کی جانے والی اس پابندی کے دوران تمام قسم کے سیاسی یا غیر سیاسی اجتماعات، جلسے، جلوس اور دھرنے غیر قانونی تصور ہوں گے اور انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اس حکم پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔