LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی، پی ٹی آئی مارچ کی تیاریاں

News Image
وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاجی مارچ کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ کے پیش نظر دارالحکومت اور پنجاب کے کئی اضلاع میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ وزارت داخلہ اور نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز کے دستوں کی یہ تعیناتی 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک کے لیے مجاز قرار دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست پر کیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز کی یہ تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے مختلف سیکشنز کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ تعینات کیے گئے دستے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بھی خطرے یا پُرتشدد کارروائی کے جواب میں اپنے دفاع کے تحت مناسب کارروائی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ وزارت داخلہ نے الگ سے ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر مسلح اور پرتشدد گروہوں کی طرف سے کوئی حملہ کیا گیا تو پولیس اور رینجرز قانون کے مطابق بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کریں گے۔ پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی کے اضلاع میں 22 ستمبر سے 5 اکتوبر تک صوبائی پولیس کی مدد کے لیے رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی تھی۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ اس احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب بھر میں پہلے ہی سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں جبکہ دونوں خطوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے۔ دریں اثنا، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کسی بھی پس پردہ رابطے کی تردید کی ہے تاہم موجودہ کشیدہ حالات کے پیش نظر حکومت سے مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی جماعت ہمیشہ پرامن رہی ہے لیکن حکومت ان کے پرامن کارکنوں کو حملہ آور کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کی طرف کسی بھی غیر قانونی مارچ یا سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن عامہ کو خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔