LIVE
Loading Breaking News...

شی جن پنگ کا دورہ وائٹ ہاؤس، ٹرمپ کے ساتھ اہم ملاقات اور اہم مطالبات

News Image
چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعلقات پر زور دیا۔ تاہم، اس پرتعیش استقبال کے باوجود چینی صدر نے مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران کے معاملے پر واضح سرخ لکیریں مقرر کیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔ امریکی صدر کی جانب سے چینی صدر کا وائٹ ہاؤس میں انتہائی شاندار اور پرتعیش استقبال کیا گیا، جس میں روایتی پروٹوکول کے ساتھ ساتھ فوجی پریڈ اور فضائی مظاہرہ بھی شامل تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان بہترین دوستی کا مظہر قرار دیا اور طویل مدتی سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے امور پر بات چیت کی، تاہم اس تمام خوشگوار ماحول کے باوجود چینی صدر شی جن پنگ نے اہم امور پر سخت اور واضح مؤقف اپنایا۔ ملاقات کے دوران چینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں سپر پاورز کے درمیان کسی بھی قسم کے تصادم سے بچنے کے لیے باہم تعاون ناگزیر ہے۔ اس موقع پر مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے حوالے سے دونوں رہنماؤں کے خیالمیں واضح فرق دیکھا گیا۔ جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ٹیکنالوجی کے امکانات پر کھل کر بات کی، وہیں شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ہمیشہ انسانی کنٹرول کے تحت رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ اوول آفس میں ہونے والی بند کمرہ ملاقاتوں میں چینی صدر نے امریکی ہم منصب پر زور دیا کہ وہ خطے میں دانشمندی کا مظاہرہ کریں اور تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرتے ہوئے تائیوان کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کریں۔ چینی صدر نے مشرق وسطیٰ کے حالات کا بھی خصوصی ذکر کیا اور امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد کوئی بڑا معاشی یا سیاسی بریک تھرو حاصل کرنا نہیں بلکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مابین پیدا ہونے والے تناؤ اور اختلافات کو کامیابی سے کنٹرول کرنا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے تجارت اور دیگر تفرقہ انگیز موضوعات پر بھی بات کی جبکہ امریکی محکمہ خزانہ نے تجارتی فائر بندی میں دو ماہ کی توسیع کا بھی اعلان کیا جو دونوںممالک کے مابین تعلقات میں ایک چھوٹا سا مثبت قدم مانا جا رہا ہے۔ دورے کے دوسرے مرحلے میں امریکی صدر نے مہمان چینی صدر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں ایک شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں ملک کے سرکردہ ٹیک سی ای اوز بھی شریک ہوئے۔ اس سے قبل بدھ کے روز بھی امریکی صدر نے انڈرویوز ایئر بیس پر خود جا کر چینی صدر کا استقبال کیا تھا جو کہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی صدر نے کسی غیر ملکی سربراہ کا ہوائی اڈے پر خود جاکر استقبال کیا۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں نے کیمرے کے سامنے خوشگوار موڈ کا اظہار کیا اور میرین ون ہیلی کاپٹر کا دورہ بھی کیا، تاہم تائیوان، ایران، اور فینٹینل کی اسمگلنگ جیسے حساس موضوعات پر دونوں جانب سے سخت سفارتی توازن برقرار رکھا گیا ہے۔