Business
پاکستان ریفائنریز کا 5 ارب ڈالر کا اپ گریڈیشن معاہدہ
پاکستان کی چار بڑی مقامی ریفائنریز نے تیل کے معیار کو بہتر بنانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ تاریخی معاہدے براؤن فیلڈ پیٹرولیم ریفائننگ پالیسی 2026 کے تحت طے پائے ہیں جن کا مقصد یورو فائیو معیارات کے مطابق ایندھن کی فراہمی ہے۔
اسلام آباد میں جمعرات کے روز ملک کی پانچ میں سے چار بڑی مقامی ریفائنریز نے بالآخر حکومت کے ساتھ باضابطہ طور پر معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد ریفائننگ ٹیکنالوجی کو جدید بنانا، صاف ستھرا ایندھن فراہم کرنا اور پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہے۔ اس پورے منصوبے کے تحت پانچ سال کے دوران لگ بھگ پانچ ارب ڈالر کی تخمینی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ یہ اپ گریڈیشن معاہدے براؤن فیلڈ پیٹرولیم ریفائننگ پالیسی 2026 کے تحت طے پائے ہیں، جس کی منظوری جولائی کے آخری ہفتے میں سات سال پروی تعطل کے بعد دی گئی تھی۔ باضابطہ معاہدوں پر اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، پاکستان ریفائنری اور سنرجیکو پیٹرولیم کی انتظامیہ کے علاوہ پیٹرولیم ڈویژن کے ذیلی ادارے انٹر اسٹیٹ گیس کمپنی نے بھی دستخط کیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچویں ریفائنری پاک عرب ریفائنری تاحال نئے معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوئی کیونکہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو جدید سمجھتی ہے، تاہم اس کے شامل ہونے سے کل سرمایہ کاری چھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو اور اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی انرجی کمیٹی کے چیئرمین عادل خٹک نے ان معاہدوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی ریفائننگ انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے پاکستان کے ریفائننگ انفراسٹرکچر میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی، یورو فائیو کے مطابق صاف ایندھن بنے گا، فرنس آئل کی پیداوار میں کمی ہوگی اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہوکر ملک کی توانائی کی سکیورٹی مضبوط ہوگی۔ عادل خٹک نے یاد دلایا کہ ریفائننگ پالیسی کا پہلا مسودہ دسمبر 2019 میں سامنے آیا تھا اور طویل تاخیر کے بعد اب اس پر عملی کام شروع ہو رہا ہے، جس سے ملک کو سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی زرمبادلہ بچت متوقع ہے۔ نئی پالیسی کے تحت موجودہ ریفائنریز کو اپنی پیداواری صلاحیت، معیار اور پروڈکٹ مکس کو بہتر بنانا ہوگا۔ اس تبدیلی سے موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی کل پیداوار بہتر ہو گی اور فرنس آئل کی پیداوار میں نمایاں کمی لائی جائے گی۔ تمام ریفائنریز ماحولیاتی دوست ایندھن تیار کرنے کے لیے جدید پلانٹس لگائیں گی جن میں سلفر کی مقدار کو یورو فائیو کے مقرر کردہ عالمی معیار کے مطابق لایا جائے گا۔ اس کے بدلے میں حکومت کی جانب سے انہیں ٹیکس مراعات، کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے مختلف مالیاتی ضمانتیں دی گئی ہیں، جو ملک کے صنعتی اور معاشی منظر نامے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوں گی۔