LIVE
Loading Breaking News...

کے پی پولیس قانون میں ترامیم کمانڈ اسٹرکچر کو کمزور کر دیں گی: طلال کا انتباہ

News Image
طلال نے خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس قوانین میں प्रस्तावित ترامیم سے محکمے کا کمانڈ اسٹرکچر کمزور ہو جائے گا۔ اس اقدام کے پولیس کے روزمرہ امور اور پیشہ ورانہ کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پشاور: خیبر پختونخوا پولیس کے قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کے حوالے سے ایک اہم انتباہ سامنے آیا ہے جہاں طلال نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ترامیم منظور کی گئیں تو اس سے صوبے کا مجموعی پولیس کمانڈ اسٹرکچر شدید متاثر اور کمزور ہو سکتا ہے۔ اس خبر کی تفصیلات ڈان اخبار میں بھی شائع کی گئی ہیں، جن کے مطابق اس معاملے پر حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس قوانین میں کسی بھی قسم کی ایسی تبدیلی جو افسران اور جوانوں کے درمیان زنجیرِ کمانڈ یعنی چین آف کمانڈ کو متاثر کرے، محکمے کی کارکردگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ طلال کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی نازک صورتحال کے پیش نظر پولیس کو سیاسی یا انتظامی دباؤ سے آزاد رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکے۔ ماہرین اور مبصرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ پولیس جیسے حساس ادارے کے قوانین میں ترامیم سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص سینئر پولیس افسران سے تفصیلی مشاورت کی جانی چاہیے۔ اس نوعیت کے اقدامات اگر عجلت میں کیے جائیں تو اس سے نہ صرف اندرونی نظم و ضبط خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے بلکہ عوام کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ متعلقہ حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس قانون میں مجوزہ ترامیم پر نظرثانی کی جائے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو ادارے کی خودمختاری یا کمانڈ اسٹرکچر کو نقصان پہنچائے۔ صوبائی سطح پر اس معاملے پر مزید بحث متوقع ہے کیونکہ سیاسی اور انتظامی حلقوں میں اس کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔