World
سعودی اتحاد نے حوثی میزائل حملے ناکام بنا دیے
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے جانے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ حوثی گروپ نے ریاض اور آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یمن کی طرف سے آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ میزائل حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے تھے جن کا ہدف سعودی عرب کے اہم ترین اسٹریٹجک مقامات تھے۔ اتحادی فورسز نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے ان تمام فضائی خطرات کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا جس سے کسی بڑے جانی یا مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔دوسری جانب حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دارالحکومت ریاض اور یانبو میں واقع آرامکو کی تنصیبات کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ حوثی ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں سعودی اتحاد کی پالیسیوں کے خلاف کی گئی ہیں۔ اس حالیہ واقعے کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں سعودی قیادت نے بھی حوثی گروپ کے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سرحد پار میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنا رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں خطے میں پائیدار امن کے قیام اور جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ سلامتی کونسل اور دیگر عالمی ادارے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔