World
اسرائیل فلسطین دو ریاستی حل پر اقوام متحدہ کا اہم انتباہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری بستیوں کی توسیع کی وجہ سے دو ریاستی حل کا وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دو ریاستی حل کے وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج خطرناک صورتحال اختیار کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور عالمی رہنماؤں نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حل کے لیے پیش کیا جانے والا دو ریاستی نظریہ اب انتہائی کٹھن مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ حالیہ بین الاقوامی اجلاسوں میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور زمینی حقائق میں ہونے والی تبدیلیاں اس امن فارمولے کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام جنم لے رہا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ امور کی نئی سربراہ کاجا کالس نے بھی خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک کی طرف سے دو ریاستی حل کے حوالے سے کیے جانے والے زبانی وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے تو یہ حل صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ ترکیہ اور دیگر علاقائی طاقتوں نے بھی اس امر کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور منصفانہ امن قائم کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جاری بستیوں کی تعمیرات اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کی پالیسیوں نے دو ریاستی حل کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کو اب زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی سفارتی دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ اگر موجودہ بحران پر قابو نہ پایا گیا تو مشرق وسطیٰ کا امن ہمیشہ کے لیے خطرے میں پڑ سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے پرامن بقائے باہمی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔